حضرت شعیب کی قوم اپنے آبائی طریقے اور روایتی جمود (traditional conformity) پر اس قدر غیر متزلزل یقین رکھتی تھی کہ پیغمبر کی معقول اور مبنی بر حق بات انھیں بالکل الٹی اور بے جوڑ معلوم ہوئی۔ انھوں نے داعیِ حق کو سنجیدگی سے سننے کے بجائے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ تم پر کسی شدید جادو کا اثر ہو گیا ہے، اس لیے تم بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو۔ قوم کا یہ مطالبہ کہ ”اگر تم سچے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا کر دکھاؤ“، درحقیقت خدا کے انکار سے زیادہ خود پیغمبر کی شخصیت کو بے وقعت اور بے حقیقت (insignificant) ثابت کرنے کے لیے تھا۔ وہ پیغمبر کو اس درجے کا انسان ہی نہیں سمجھتے تھے کہ ان کے کہنے سے کوئی خدائی إنذار (divine warning) یا آسمانی عذاب واقع ہو سکے۔ یہ کسی حق بات کے مقابلے میں ایک ایسی تحقیر آمیز ذہنیت تھی جس کا رخ ہمیشہ دعوت کی معروضی حقیقت (objective reality) سے ہٹ کر داعی کی ذات اور اس کی ظاہری حیثیت کی طرف ہو جاتا ہے۔
یہ رویہ صرف قدیم اقوام تک محدود نہیں تھا بلکہ تاریخ کے ہر دور میں انسانوں کے اندر یہی ردِ عمل کی نفسیات (reactionary psychology) کارفرما نظر آتی ہے۔ جب بھی انسانیت کے سامنے امن، عدم تشدد (non-violence)، اخلاقی ماڈل یا حکمت کی کوئی بات کسی ایسے حوالے سے پیش کی جائے جو انسانوں کے خود ساختہ گروہی دائرے سے باہر ہو، تو لوگ اصل اصول کو سمجھنے کے بجائے حوالے پر الجھ پڑتے ہیں۔ وہ تعصب اور انا (ego) کی بنیاد پر نصیحت کو یہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ انھیں فلاں شخص، فلسفے یا قوم کی مثال قبول نہیں، خواہ وہ بات حقیقت پر ہی مبنی کیوں نہ ہو۔ اس طرح کا گروہی تعصب (groupism) انسان کو اصل حقیقت کا ادراک کرنے سے محروم کر دیتا ہے، اور وہ اپنے اس سطحی انکار کا انجام سمجھے بغیر اسی تباہی کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے جس سے اسے خبردار کیا جا رہا تھا۔
قومِ شعیب کی بنیادی گمراہی عقیدے کے بگاڑ کے ساتھ ساتھ ان کا شدید معاشی اور اقتصادی فساد (economic corruption) تھا۔ انھوں نے لین دین، ناپ تول اور معاشیات کے معاملات میں عدل اور امانت کا راستہ چھوڑ کر دھوکہ دہی، ناانصافی اور انسانوں کے حقوق غصب کرنے کا وطیرہ اختیار کر رکھا تھا۔ ان کی معیشت فریب اور باہمی استحصال پر قائم ہو چکی تھی۔ قرآنی تاریخ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی قوم مادی وسائل اور معاشیات کو عدل کے خدائی اصولوں سے الگ کر کے محض مفاد پرستی کا کھلونا بنا لیتی ہے، تو وہ بالآخر ایک ایسے ہمہ گیر بگاڑ میں مبتلا ہو جاتی ہے جو پوری انسانی بستی کے امن اور بقا کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔
موجودہ دور کی تصویر بھی قومِ شعیب کے اس بگاڑ سے حیرت انگیز مشابہت رکھتی ہے۔ دورِ حاضر میں انسان نے ایک طرف عملی الحاد اور مادہ پرستی (materialism) کو گلے لگایا، اور دوسری طرف عالمی سطح پر تجارتی جنگوں (trade wars) اور معاشی کشمکش کا بازار گرم کر دیا۔ دنیا مختلف معاشی اور سیاسی بلاکوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، مالیاتی معاہدوں میں بداخلاقی برتنے اور وسائل پر اجارہ داری قائم کرنے کی دوڑ میں لگی ہوئی ہے۔ اس مادی کشمکش کا نتیجہ عالمی سطح پر توانائی کے بحران (energy crisis)، تباہ کن افراطِ زر (inflation) اور وسیع تر معاشی اضطراب کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ انسانوں کا اپنا پیدا کردہ یہ بگاڑ ان کے اپنے ہی لیے جال بنتا جا رہا ہے اور پوری دنیا ترقی کے بجائے زوال (decline) کی کھائی میں گرتی چلی جا رہی ہے۔
آخر کار قومِ شعیب کی سرکشی کا نتیجہ یہ نکلا کہ بادل کی صورت میں ایک سایہ (عذابِ یوم الظلہ) ان پر نمودار ہوا اور اس کے اندر سے برستی ہوئی خدائی آگ نے پوری قوم کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا۔ آج کا انسان بھی اپنے پیدا کردہ ہتھیاروں، بارود کی بارش، اور زمینی و سمندری وسائل کی مستقل تباہی (permanent destruction of resources) کے ذریعے اسی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جب قومیں شرک، مادہ پرستی اور معاشی استحصال کو اپنا شیوہ بنا لیں اور اصلاح کی ہر آواز کو حقارت سے ٹھکرا دیں، تو قانونِ قدرت کے تحت ان کا انجام اسی طرح کی ہمہ گیر تباہی پر منتج ہوتا ہے۔ یہ تاریخ کا وہ ابدی سبق ہے جو قرآن نے قومِ شعیب کے انجام کے ذریعے رہتی دنیا تک کے لیے محفوظ کر دیا ہے۔
(a) Shu‘ayb’s community had so much faith in the righteousness of their forefathers’ ways that the prophet’s sayings seemed perverse and absurd. They said that somebody might well have cast a magic spell on him to make him talk the way he did. They challenged Shu‘ayb to bring down the punishment of the skies, if what he said were true. They did this to deride Shu‘ayb, feeling that the punishment would certainly not descend because of him. The insolence of this community invited the direct wrath of God, as a vast cloud plunged them in gloom and a raging fire enveloped them, wiping out even the smallest trace of the community.